لالا[1]

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بودا، کمزور، ڈرپوک، تُھڑ دلا۔ (جامع اللغات، فرہنگ آصفیہ) ١ - مہاجن، ساہو کار، بنیا۔ "لالا کائستھوں کے لیے مخصوص نہیں جیسا کہ بعض اصحاب کا خیال ہے۔"      ( ١٩٧٣ء، دیوانِ دل، ٣٩ ) ٢ - [ ہندو ]  صاحب، جناب، حضرت، میاں، مسٹر، بابو۔ (ماخوذ: فرہنگ آصفیہ، علمی اردو لغت) ٥ - بچہ، صاحبزادہ، ننھا منا۔ "گھونگھر والے ہیں بال میرے لالا کے۔"    ( ١٩٦٧ء، اردو نامہ، کراچی، ١١٤:٢٩ ) ٦ - پیارا، محبوب، عیزیز۔  پھر آن کے منت سے ملا ہے ہم سے وہ لالا المنتہ للہ تقدس و تعالٰی    ( ١٨٣٠ء، کلیاتِ نظیر، ٩:١ ) ٧ - عثمانیوں کی فوج کے سپہ سالارِ اعظم کی جماعت جو کہ بیگلر بیگی بھی کہلاتی تھی۔ "بعض بیگلر بیگموں کا لقب لالا یا اس کے ہم معنی لفظ اتابک ہوتا تھا۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٠٨:٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو زبان عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٨٠ء کو "کلیاتِ سودا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مہاجن، ساہو کار، بنیا۔ "لالا کائستھوں کے لیے مخصوص نہیں جیسا کہ بعض اصحاب کا خیال ہے۔"      ( ١٩٧٣ء، دیوانِ دل، ٣٩ ) ٥ - بچہ، صاحبزادہ، ننھا منا۔ "گھونگھر والے ہیں بال میرے لالا کے۔"    ( ١٩٦٧ء، اردو نامہ، کراچی، ١١٤:٢٩ ) ٧ - عثمانیوں کی فوج کے سپہ سالارِ اعظم کی جماعت جو کہ بیگلر بیگی بھی کہلاتی تھی۔ "بعض بیگلر بیگموں کا لقب لالا یا اس کے ہم معنی لفظ اتابک ہوتا تھا۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٠٨:٣ )